EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

عجیب قید تھی جس میں بہت خوشی تھی مجھے
اب اشک تھمتے نہیں ہیں یہ کیا رہا ہوا میں

بلال احمد




ایک حالت تھی مری اور ایک حالت دل کی تھی
میری حالت تو وہی ہے دل کی وہ حالت گئی

بلال احمد




ایک کانٹے کی کھٹک سے دل مرا آباد تھا
وہ گیا تو دل سے میرے درد کی راحت گئی

بلال احمد




ہماری خاک تبرک سمجھ کے لے جاؤ
ہماری جان محبت کی لو میں جلتی تھی

بلال احمد




رس رہا ہے مدت سے کوئی پہلا غم مجھ میں
راستہ بناتا ہے آنسوؤں کا نم مجھ میں

بلال احمد




سنا ہے میں نے اذیت مزہ بھی دیتی ہے
سنا ہے دل کی خلش میں سکوں بھی ہوتا ہے

بلال احمد




الجھ رہا تھا ابھی خواب کی فصیل سے میں
کہ نارسائی نے اک شب مجھے رسائی دی

بلال احمد