EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آ جائے نہ دل آپ کا بھی اور کسی پر
دیکھو مری جاں آنکھ لڑانا نہیں اچھا

بھارتیندو ہریش چندر




ابھی تو آئے ہو جلدی کہاں ہے جانے کی
اٹھو نہ پہلو سے ٹھہرو ذرا کدھر کو چلے

بھارتیندو ہریش چندر




اے رساؔ جیسا ہے برگشتہ زمانہ ہم سے
ایسا برگشتہ کسی کا نہ مقدر ہوگا

بھارتیندو ہریش چندر




بات کرنے میں جو لب اس کے ہوئے زیر و زبر
ایک ساعت میں تہہ و بالا زمانہ ہو گیا

بھارتیندو ہریش چندر




بت کافر جو تو مجھ سے خفا ہو
نہیں کچھ خوف میرا بھی خدا ہے

بھارتیندو ہریش چندر




چھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں
مٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی

بھارتیندو ہریش چندر




غافل اتنا حسن پہ غرہ دھیان کدھر ہے توبہ کر
آخر اک دن صورت یہ سب مٹی میں مل جائے گی

بھارتیندو ہریش چندر