فصل گل کب لٹی نہیں معلوم
کب بہار آئی تھی نہیں معلوم
ہم بھٹکتے رہے اندھیرے میں
روشنی کب ہوئی نہیں معلوم
کب وہ گزرے قریب سے دل کے
نیند کب آ گئی نہیں معلوم
درد جب جب اٹھا ہوا محسوس
چوٹ کب کب لگی نہیں معلوم
بے بسی جس کی زیست ہو اس کو
زیست کی بے بسی نہیں معلوم
ناز سجدوں پہ ہے ہمیں لیکن
نازش بندگی نہیں معلوم
اپنی حالت پہ تیرے وحشی کو
کیوں ہنسی آ گئی نہیں معلوم
ہوش آیا تو مے کدہ نہ رہا
ہائے کس وقت پی نہیں معلوم
میری جانب وہ دیکھ کر بولے
ہے کوئی اجنبی نہیں معلوم
دور حاضر کی بزم میں بیکلؔ
کون ہے آدمی نہیں معلوم
غزل
فصل گل کب لٹی نہیں معلوم
بیکل اتساہی