EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں چاہتا ہوں کہ تم ہی مجھے اجازت دو
تمہاری طرح سے کوئی گلے لگائے مجھے

بشیر بدر




میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا
تمہاری محبت اگر ساتھ ہوگی

بشیر بدر




میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

بشیر بدر




میں جس کی آنکھ کا آنسو تھا اس نے قدر نہ کی
بکھر گیا ہوں تو اب ریت سے اٹھائے مجھے

بشیر بدر




میں نے دن رات خدا سے یہ دعا مانگی تھی
کوئی آہٹ نہ ہو در پر مرے جب تو آئے

بشیر بدر




میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں

بشیر بدر




میں تمام تارے اٹھا اٹھا کے غریب لوگوں میں بانٹ دوں
وہ جو ایک رات کو آسماں کا نظام دے مرے ہاتھ میں

بشیر بدر