EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی
شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا

عذرا وحید




دلوں میں تلخیاں پھر بھی نظر میں مسکراہٹ ہو
بلا کے حبس میں بھی ہو ہوا ایسا بھی ہوتا ہے

عذرا وحید




لہو رلاتے ہیں اور پھر بھی یاد آتے ہیں
محبتوں کے پرانے نصاب سے کچھ ہیں

عذرا وحید




میں کون ہوں کہ ہے سب کانچ کا وجود مرا
مرا لباس بھی میلا دکھائی دیتا ہے

عذرا وحید




نمو کے رب کبھی اس منصفی کی داد تو دے
شجر کوئی نہ لگایا ثمر سمیٹا ہے

عذرا وحید




تجھ کو پائیں تجھے کھو بیٹھیں پھر
زندگی ایک تھی ڈر کتنے تھے

عذرا وحید




اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی
یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا

عذرا وحید