EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مفلسی نے جا بجا لوٹا ہمیں
اب بچا کچھ بھی نہیں لٹوائیں کیا

بابر رحمان شاہ




تھکن سے چور ہے سارا وجود اب میرا
میں بوجھ اتنے غموں کا تو ڈھو نہیں سکتا

بابر رحمان شاہ




آنسو سے ندی بنے ندی سمندر جائے
پربت کا رونا مگر کوئی دیکھ نہ پائے

بدنام نظر




جنت اور جہنم کا ریل کھیل دکھلائے
اک ڈبے میں آگ رہے دوجا برف جمائے

بدنام نظر




کیوٹ چپو ہاتھ لئے اچرج میں پڑ جائے
شاعر کاغذ کی نیا کیسے پار لگائے

بدنام نظر




کھیل سیاست کا بلی سے اب تو سیکھا جائے
چوہوں کے وہ پران لے پر ماسی کہلائے

بدنام نظر




یا بچے جنتی رہے یا ساس کی گالی کھائے
بیٹی جب بہو بنے اک پل چین نہ پائے

بدنام نظر