EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یوں بار بار مجھ کو صدائیں نہ دیجئے
اب وہ نہیں رہا ہوں کوئی دوسرا ہوں میں

عزم شاکری




زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا
زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد

عزم شاکری




زندگی میری مجھے قید کئے دیتی ہے
اس کو ڈر ہے میں کسی اور کا ہو سکتا ہوں

عزم شاکری




چیونٹیوں کی طرح ہیں چمٹی ہوئی
تیری یادوں نے مار ڈالا ہے

عظمت اللہ خاں




آنے والے کل کی خاطر ہر ہر پل قربان کیا
حال کو دفنا دیتے ہیں ہم جینے کی تیاری میں

عذرا نقوی




اب کی بار جو گھر جانا تو سارے البم لے آنا
وقت کی دیمک لگ جاتی ہے یادوں کی الماری میں

عذرا نقوی




حقیقتیں تو مرے روز و شب کی ساتھی ہیں
میں روز و شب کی حقیقت بدلنا چاہتی ہوں

عذرا نقوی