EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کس نے کہا ہے دیواروں پر سایہ کرتا ہے سورج
دیواروں پر دیواروں کا اپنا سایا ہوتا ہے

ازرق ادیم




ساون کی رت آ گئی کھلے کنول کے پھول
کلیوں کے مکھڑے دھلے اڑی چمن کے دھول

بی ایس جین جوہر




آتش عشق جب جلاتی ہے
جل کے میں نوش جام کرتا ہوں

بابر رحمان شاہ




اے پری زاد تیرے جانے پر
ہو گیا خود سے رابطہ میرا

بابر رحمان شاہ




دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا
ہم کو بیچا مگر نہ دام لیا

بابر رحمان شاہ




دل سے آخر چراغ وصل بجھا
کیا تمنا نے انتقام لیا

بابر رحمان شاہ




کسی کے جال میں آ کر میں اپنا دل گنوا بیٹھا
مجھے تھا عشق قاتل سے میں اپنا سر کٹا بیٹھا

بابر رحمان شاہ