EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھیلتے ہوئے شہرو اپنی وحشتیں روکو
میرے گھر کے آنگن پر آسمان رہنے دو

عذرا نقوی




چار سمتیں آئینہ سی ہر طرف
تم کو کھو دینے کا منظر اور میں

عذرا پروین




رنگ اپنے جو تھے بھر بھی کہاں پائے کبھی ہم
ہم نے تو سدا رد عمل میں ہی بسر کی

عذرا پروین




سمٹ گئی تو شبنم پھول ستارہ تھی
بپھر کے میری لہر لہر انگارہ تھی

عذرا پروین




اس نے میرے نام سورج چاند تارے لکھ دیا
میرا دل مٹی پہ رکھ اپنے لب روتا رہا

عذرا پروین




زمیں کے اور تقاضے فلک کچھ اور کہے
قلم بھی چپ ہے کہ اب موڑ لے کہانی کیا

عذرا پروین




آگہی نے دیئے ابہام کے دھوکے کیا کیا
شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے

عذرا وحید