EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں

عزم بہزاد




کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا

عزم بہزاد




روشنی ڈھونڈ کے لانا کوئی مشکل تو نہ تھا
لیکن اس دوڑ میں ہر شخص کو جلتے دیکھا

عزم بہزاد




سوال کرنے کے حوصلے سے جواب دینے کے فیصلے تک
جو وقفۂ صبر آ گیا تھا اسی کی لذت میں آ بسا ہوں

عزم بہزاد




اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو
اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

عزم بہزاد




آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں
لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

عزم شاکری




آج کی رات دوالی ہے دیے روشن ہیں
آج کی رات یہ لگتا ہے میں سو سکتا ہوں

عزم شاکری