شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا
یادگار حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا
عزیز لکھنوی
شیشۂ دل کو یوں نہ اٹھاؤ
دیکھو ہاتھ سے چھوٹا ہوتا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا
آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| گریا اے-زاری |
| 2 لائنیں شیری |
سکون دل نہیں جس وقت سے اس بزم میں آئے
ذرا سی چیز گھبراہٹ میں کیا جانے کہاں رکھ دی
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تہ میں دریائے محبت کے تھی کیا چیز عزیزؔ
جو کوئی ڈوب گیا اس کو ابھرنے نہ دیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تمام انجمن وعظ ہو گئی برہم
لئے ہوئے کوئی یوں ساغر شراب آیا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تقلید اب میں حضرت واعظ کی کیوں کروں
ساقی نے دے دیا مجھے فتویٰ جواز کا
عزیز لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

