EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرے دہن میں اگر آپ کی زباں ہوتی
تو پھر کچھ اور ہی عنوان داستاں ہوتا

عزیز لکھنوی




مجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ
یاد ایام بت پرستی تھی

عزیز لکھنوی




مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں
یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں

عزیز لکھنوی




پھوٹ نکلا زہر سارے جسم میں
جب کبھی آنسو ہمارے تھم گئے

عزیز لکھنوی




قفس میں جی نہیں لگتا ہے آہ پھر بھی مرا
یہ جانتا ہوں کہ تنکا بھی آشیاں میں نہیں

عزیز لکھنوی




قتل اور مجھ سے سخت جاں کا قتل
تیغ دیکھو ذرا کمر دیکھو

عزیز لکھنوی




سبق آ کے گور غریباں سے لے لو
خموشی مدرس ہے اس انجمن میں

عزیز لکھنوی