EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دیکھتا ہوں ان کی صورت دیکھ کر
دھوپ میں تارے نظر آتے ہیں مجھے

عزیز حیدرآبادی




دھڑکتے ہوئے دل کے ہمراہ میرے
مری نبض بھی چارہ گر دیکھ لیتے

عزیز حیدرآبادی




دل ٹھکانے ہو تو سب کچھ ہے عزیز
جی بہل جاتا ہے صحرا کیوں نہ ہو

عزیز حیدرآبادی




دنیا کی روش دیکھی تری زلف دوتا میں
بنتی ہے یہ مشکل سے بگڑتی ہے ذرا میں

عزیز حیدرآبادی




گن رہا ہوں حرف ان کے عہد کے
مجھ کو دھوکا دے رہی ہے یاد کیا

عزیز حیدرآبادی




ہم کو سنبھالتا کوئی کیا راہ عشق میں
کھا کھا کے ٹھوکریں ہمیں آخر سنبھل گئے

عزیز حیدرآبادی




حسن ہے داد خدا عشق ہے امداد خدا
غیر کا دخل نہیں بخت ہے اپنا اپنا

عزیز حیدرآبادی