EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آنکھوں میں تری شکل ہے دل میں ہے تری یاد
آئے بھی تو کس شان سے فرقت کے دن آئے

عزیز حیدرآبادی




آرام اپنے بس کا ہے بس میں نہیں ہے کیا
گلشن میں کیا دھرا ہے قفس میں نہیں ہے کیا

عزیز حیدرآبادی




ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے ابھی کچھ
تری کافر نظر کیا جانے کیا ہے

عزیز حیدرآبادی




عیاں یا نہاں اک نظر دیکھ لیتے
کسی صورت ان کو مگر دیکھ لیتے

عزیز حیدرآبادی




بہت کچھ دیکھنا ہے آگے آگے
ابھی دل نے مرے دیکھا ہی کیا ہے

عزیز حیدرآبادی




دم تکلم کسی کے آگے ہم اپنے دل کو بھی دیتے ہوکے
ملاتے چن چن کے لفظ ایسے سوال گویا جواب ہوتا

عزیز حیدرآبادی




درد سہنے کے لئے صدمے اٹھانے کے لئے
ان سے دل اپنا مجھے واپس طلب کرنا پڑا

عزیز حیدرآبادی