اس گھر کے چپے چپے پر چھاپ ہے رہنے والے کی
میرے جسم میں مجھ سے پہلے شاید کوئی رہتا تھا
عزیز بانو داراب وفا
جانے کتنے راز کھلیں جس دن چہروں کی راکھ دھلے
لیکن سادھو سنتوں کو دکھ دے کر پاپ کمائے کون
عزیز بانو داراب وفا
جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں
خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے
اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ
عزیز بانو داراب وفا
کہنے والا خود تو سر تکیے پہ رکھ کر سو گیا
میری بے چاری کہانی رات بھر روتی رہی
عزیز بانو داراب وفا
خواب دروازوں سے داخل نہیں ہوتے لیکن
یہ سمجھ کر بھی وہ دروازہ کھلا رکھے گا
عزیز بانو داراب وفا
کسی جنم میں جو میرا نشاں ملا تھا اسے
پتا نہیں کہ وہ کب اس نشان تک پہنچا
عزیز بانو داراب وفا

