EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس گھر کے چپے چپے پر چھاپ ہے رہنے والے کی
میرے جسم میں مجھ سے پہلے شاید کوئی رہتا تھا

عزیز بانو داراب وفا




جانے کتنے راز کھلیں جس دن چہروں کی راکھ دھلے
لیکن سادھو سنتوں کو دکھ دے کر پاپ کمائے کون

عزیز بانو داراب وفا




جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں
خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے
اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ

عزیز بانو داراب وفا




کہنے والا خود تو سر تکیے پہ رکھ کر سو گیا
میری بے چاری کہانی رات بھر روتی رہی

عزیز بانو داراب وفا




خواب دروازوں سے داخل نہیں ہوتے لیکن
یہ سمجھ کر بھی وہ دروازہ کھلا رکھے گا

عزیز بانو داراب وفا




کسی جنم میں جو میرا نشاں ملا تھا اسے
پتا نہیں کہ وہ کب اس نشان تک پہنچا

عزیز بانو داراب وفا