چراغوں نے ہمارے سائے لمبے کر دیئے اتنے
سویرے تک کہیں پہنچیں گے اب اپنے برابر ہم
عزیز بانو داراب وفا
دھوپ میری ساری رنگینی اڑا لے جائے گی
شام تک میں داستاں سے واقعہ ہو جاؤں گی
عزیز بانو داراب وفا
ایک مدت سے خیالوں میں بسا ہے جو شخص
غور کرتے ہیں تو اس کا کوئی چہرہ بھی نہیں
عزیز بانو داراب وفا
فسانہ در فسانہ پھر رہی ہے زندگی جب سے
کسی نے لکھ دیا ہے طاق نسیاں پر پتہ اپنا
عزیز بانو داراب وفا
گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب پھل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا
عزیز بانو داراب وفا
ہم ایسے سورما ہیں لڑ کے جب حالات سے پلٹے
تو بڑھ کے زندگی نے پیش کیں بیساکھیاں ہم کو
عزیز بانو داراب وفا
ہم ہیں احساس کے سیلاب زدہ ساحل پر
دیکھیے ہم کو کہاں لے کے کنارا جائے
عزیز بانو داراب وفا

