EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی موسم میری امیدوں کو راس آیا نہیں
فصل اندھیاروں کی کاٹی اور دیئے بوتی رہی

عزیز بانو داراب وفا




کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی
میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا

عزیز بانو داراب وفا




لگائے پیٹھ بیٹھی سوچتی رہتی تھی میں جس سے
وہی دیوار لفظوں کی اچانک آ رہی مجھ پر

عزیز بانو داراب وفا




میں اپنے آپ سے ٹکرا گئی تھی خیر ہوئی
کہ آ گیا مری قسمت سے درمیان میں وہ

عزیز بانو داراب وفا




میں اپنے جسم میں رہتی ہوں اس تکلف سے
کہ جیسے اور کسی دوسرے کے گھر میں ہوں

عزیز بانو داراب وفا




میں بھی ساحل کی طرح ٹوٹ کے بہہ جاتی ہوں
جب صدا دے کے بلاتا ہے سمندر مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی
تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا

عزیز بانو داراب وفا