کوئی موسم میری امیدوں کو راس آیا نہیں
فصل اندھیاروں کی کاٹی اور دیئے بوتی رہی
عزیز بانو داراب وفا
کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی
میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا
عزیز بانو داراب وفا
لگائے پیٹھ بیٹھی سوچتی رہتی تھی میں جس سے
وہی دیوار لفظوں کی اچانک آ رہی مجھ پر
عزیز بانو داراب وفا
میں اپنے آپ سے ٹکرا گئی تھی خیر ہوئی
کہ آ گیا مری قسمت سے درمیان میں وہ
عزیز بانو داراب وفا
میں اپنے جسم میں رہتی ہوں اس تکلف سے
کہ جیسے اور کسی دوسرے کے گھر میں ہوں
عزیز بانو داراب وفا
میں بھی ساحل کی طرح ٹوٹ کے بہہ جاتی ہوں
جب صدا دے کے بلاتا ہے سمندر مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی
تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا
عزیز بانو داراب وفا

