EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں اس کی دھوپ ہوں جو میرا آفتاب نہیں
یہ بات خود پہ میں کس طرح آشکار کروں

عزیز بانو داراب وفا




مر کے خود میں دفن ہو جاؤں گی میں بھی ایک دن
سب مجھے ڈھونڈیں گے جب میں راستہ ہو جاؤں گی

عزیز بانو داراب وفا




میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی
زندگی اوڑھے ہوئے میں بے خبر سوتی رہی

عزیز بانو داراب وفا




میرے اندر کوئی تکتا رہا رستہ اس کا
میں ہمیشہ کے لئے رہ گئی چلمن بن کے

عزیز بانو داراب وفا




میرے حالات نے یوں کر دیا پتھر مجھ کو
دیکھنے والوں نے دیکھا بھی نہ چھو کر مجھ کو

عزیز بانو داراب وفا




میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی

عزیز بانو داراب وفا




میری تصویر بنانے کو جو ہاتھ اٹھتا ہے
اک شکن اور مرے ماتھے پہ بنا دیتا ہے

عزیز بانو داراب وفا