میں اس کی دھوپ ہوں جو میرا آفتاب نہیں
یہ بات خود پہ میں کس طرح آشکار کروں
عزیز بانو داراب وفا
مر کے خود میں دفن ہو جاؤں گی میں بھی ایک دن
سب مجھے ڈھونڈیں گے جب میں راستہ ہو جاؤں گی
عزیز بانو داراب وفا
میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی
زندگی اوڑھے ہوئے میں بے خبر سوتی رہی
عزیز بانو داراب وفا
میرے اندر کوئی تکتا رہا رستہ اس کا
میں ہمیشہ کے لئے رہ گئی چلمن بن کے
عزیز بانو داراب وفا
میرے حالات نے یوں کر دیا پتھر مجھ کو
دیکھنے والوں نے دیکھا بھی نہ چھو کر مجھ کو
عزیز بانو داراب وفا
میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی
عزیز بانو داراب وفا
میری تصویر بنانے کو جو ہاتھ اٹھتا ہے
اک شکن اور مرے ماتھے پہ بنا دیتا ہے
عزیز بانو داراب وفا

