میں کس زبان میں اس کو کہاں تلاش کروں
جو میری گونج کا لفظوں سے ترجمہ کر دے
عزیز بانو داراب وفا
میں کسی جنم کی یادوں پہ پڑا پردہ ہوں
کوئی اک لمحے کو اک دم سے اٹھاتا ہے مجھے
عزیز بانو داراب وفا
میں نے یے سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا
عزیز بانو داراب وفا
میں پھوٹ پھوٹ کے روئی مگر مرے اندر
بکھیرتا رہا بے ربط قہقہے کوئی
عزیز بانو داراب وفا
میں روشنی ہوں تو میری پہنچ کہاں تک ہے
کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی
عزیز بانو داراب وفا
میں شاخ سبز ہوں مجھ کو اتار کاغذ پر
مری تمام بہاروں کو بے خزاں کر دے
عزیز بانو داراب وفا
میں اس کے سامنے عریاں لگوں گی دنیا کو
وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا
عزیز بانو داراب وفا

