ہم متاع دل و جاں لے کے بھلا کیا جائیں
ایسی بستی میں جہاں کوئی لٹیرا بھی نہیں
عزیز بانو داراب وفا
ہم نے سارا جیون بانٹی پیار کی دولت لوگوں میں
ہم ہی سارا جیون ترسے پیار کی پائی پائی کو
عزیز بانو داراب وفا
ہم نے سب کو مفلس پا کے توڑ دیا دل کا کشکول
ہم کو کوئی کیا دے دے گا کیوں منہ دیکھی بات کریں
عزیز بانو داراب وفا
ہم سے زیادہ کون سمجھتا ہے غم کی گہرائی کو
ہم نے خوابوں کی مٹی سے پاٹا ہے اس کھائی کو
عزیز بانو داراب وفا
ہماری بے بسی شہروں کی دیواروں پہ چپکی ہے
ہمیں ڈھونڈے گی کل دنیا پرانے اشتہاروں میں
عزیز بانو داراب وفا
ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے
عزیز بانو داراب وفا
اک وہی کھول سکا ساتواں در مجھ پہ مگر
ایک شب بھول گیا پھیرنا جادو وہ بھی
عزیز بانو داراب وفا

