EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تمہارے ساتھ مرے مختلف مراسم ہیں
مری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

عاصمؔ واسطی




تو مرے پاس جب نہیں ہوتا
تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں

عاصمؔ واسطی




وقت بے وقت جھلکتا ہے مری صورت سے
کون چہرہ مری تشکیل میں آیا ہوا ہے

عاصمؔ واسطی




یہ ہم سفر تو سبھی اجنبی سے لگتے ہیں
میں جس کے ساتھ چلا تھا وہ قافلہ ہے کہاں

عاصمؔ واسطی




زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم
سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

عاصمؔ واسطی




آئنے پر تو ہے بھروسا مجھے
اس سے کیوں منہ چھپائے بیٹھی ہوں

عاصمہ طاہر




بام و در پر اترنے والی دھوپ
سبز رنگ ملال رکھتی ہے

عاصمہ طاہر