مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
عاصمؔ واسطی
مجھے خبر ہی نہیں تھی کہ عشق کا آغاز
اب ابتدا سے نہیں درمیاں سے ہوتا ہے
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہیں وہ شمع محبت رہی تو پھر عاصمؔ
یہ کس دعا سے مرے گھر میں روشنی سی ہے
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سیکھا نہ دعاؤں میں قناعت کا سلیقہ
وہ مانگ رہا ہوں جو مقدر میں نہیں ہے
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے تنہا جاؤ تم
بات پوری بھی نہ ہوگی اور گھر آ جائے گا
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تری زمین پہ کرتا رہا ہوں مزدوری
ہے سوکھنے کو پسینہ معاوضہ ہے کہاں
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| مزار |
| 2 لائنیں شیری |
تم اس رستے میں کیوں بارود بوئے جا رہے ہو
کسی دن اس طرف سے خود گزرنا پڑ گیا تو
عاصمؔ واسطی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

