جن سفینوں نے کبھی توڑا تھا موجوں کا غرور
اس جگہ ڈوبے جہاں دریا میں طغیانی نہ تھی
ملک زادہ منظور احمد
کاش دولت غم ہی اپنے پاس بچ رہتی
وہ بھی ان کو دے بیٹھے ایسی مات کھائی ہے
ملک زادہ منظور احمد
کھل اٹھے گل یا کھلے دست حنائی تیرے
ہر طرف تو ہے تو پھر تیرا پتا کس سے کریں
ملک زادہ منظور احمد
خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے
ملک زادہ منظور احمد
کچھ غم جاناں کچھ غم دوراں دونوں میری ذات کے نام
ایک غزل منسوب ہے اس سے ایک غزل حالات کے نام
ملک زادہ منظور احمد
کیا جانئے کیسی تھی وہ ہوا چونکا نہ شجر پتہ نہ ہلا
بیٹھا تھا میں جس کے سائے میں منظورؔ وہی دیوار گری
ملک زادہ منظور احمد
نہ خوف برق نہ خوف شرر لگے ہے مجھے
خود اپنے باغ کو پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے
ملک زادہ منظور احمد

