EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر
ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

مجید اختر




رات بھی چاند بھی سمندر بھی
مل گئے کتنے غم گسار مجھے

مجید اختر




سارا حساب جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے
چاہے تو دے اماں مجھے چاہے تو درگزر نہ کر

مجید اختر




ذرا ٹھہرو کہ پڑھ لوں کیا لکھا موسم کی بارش نے
مری دیوار پر لکھتی رہی ہے داستاں وہ بھی

مجید اختر




بڑے سلیقے سے دنیا نے میرے دل کو دیے
وہ گھاؤ جن میں تھا سچائیوں کا چرکا بھی

مجید امجد




چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے
پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

مجید امجد




ہائے وہ زندگی فریب آنکھیں
تو نے کیا سوچا میں نے کیا سمجھا

مجید امجد