EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تری نگاہ تو خوش منظری پہ رہتی ہے
تیری پسند کے منظر کہاں سے لاؤں میں

خلیل تنویر




تو مجھ کو بھولنا چاہے تو بھول سکتا ہے
میں ایک حرف تمنا تری کتاب میں ہوں

خلیل تنویر




وہ لوگ اپنے آپ میں کتنے عظیم تھے
جو اپنے دشمنوں سے بھی نفرت نہ کر سکے

خلیل تنویر




وہ لوگ جن کی زمانہ ہنسی اڑاتا ہے
اک عمر بعد انہیں معتبر بھی کرتا ہے

خلیل تنویر




وہ شہر چھوڑ کے مدت ہوئی چلا بھی گیا
حد افق پہ مگر چاند روبرو ہے وہی

خلیل تنویر




زمانہ لاکھ ستاروں کو چھو کے آ جائے
ابھی دلوں کو مگر حاجت رفو ہے وہی

خلیل تنویر




ذرا سی ٹھیس لگی تھی کہ چور چور ہوا
ترے خیال کا پیکر بھی آبگینہ تھا

خلیل تنویر