EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

وقت پوجے گا ہمیں وقت ہمیں ڈھونڈے گا
اور تم وقت کے ہمراہ چلو گے یارو

خلیق قریشی




جانے کتنے ڈوبنے والے ساحل پر بھی ڈوب گئے
پیارے! طوفانوں میں رہ کر اتنا بھی گھبرانا کیا

خلیق صدیقی




پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدا
فرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے

خالد احمد




ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں

خالد احمد




وہ گلی ہم سے چھوٹتی ہی نہیں
کیا کریں آس ٹوٹتی ہی نہیں

خالد احمد




وہ جو ایک بات تھی گفتنی وہی ایک بات شنیدنی
جسے میں نے تم سے کہا نہیں جسے تم نے مجھ سے سنا نہیں

خالد علیگ




ابھی مرنے کی جلدی ہے عبادیؔ
اگر زندہ رہے تو پھر ملیں گے

خالد عبادی