مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو
خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو
ہیں شام کے نصیب میں تارے نہ آسماں
رک سا گیا ہے قلب جہاں جاگتے رہو
دل میں خیال ہے نہ نظر میں سوال ہے
باقی نہیں ہے کوئی نشاں جاگتے رہو
چاند اور ستارے ماند ہیں سورج بھی زرد زرد
پھیکی پڑی ہے کاہکشاں جاگتے رہو
پوجا کے پھول سوکھ گئے انتظار میں
سویا ہوا ہے شہر بتاں جاگتے رہو
غزل
مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو
خلیل مامون

