جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں
خود اپنی دوزخ کی آگ کھا کر میں پل رہا ہوں
سفر کی روداد بھی مری کچھ عجیب سی ہے
میں اخضری پہاڑیوں سے گر کر سنبھل رہا ہوں
مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے
میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں
چتا بجھا دے کوئی کوئی استھیاں بہا دے
میں آرزو میں سحر کی صدیوں سے جل رہا ہوں
سمندروں کا سواد میری زبان پر ہے
میں سونگھ کر مچھلیوں کی خوشبو مچل رہا ہوں
نہیں ہے مامونؔ ساتھ میرے یہاں پہ کوئی
اکیلا ہی زندگی کی راہوں پہ چل رہا ہوں
غزل
جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں
خلیل مامون

