EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ذرا دیکھ آئنہ میری وفا کا
کہ تو کیسا تھا اب کیسا لگے ہے

کلیم عاجز




زندگی مائل فریاد و فغاں آج بھی ہے
کل بھی تھا سینے پہ اک سنگ گراں آج بھی ہے

کلیم عاجز




اب اس کو زندگی کہئے کہ عہد بے حسی کہئے
گھروں میں لوگ روتے ہیں مگر رستوں پہ ہنستے ہیں

کلیم حیدر شرر




اپنے دروازے پہ بیٹھا سوچتا رہتا ہوں میں
میرا گھر اجداد کی بارہ دری کا کرب ہے

کلیم حیدر شرر




حقیقت ہے اسے مانیں نہ مانیں گھٹتی بڑھتی ہیں
وہ جھوٹی ہوں کہ سچی داستانیں گھٹتی بڑھتی ہیں

کلیم حیدر شرر




کئی لوگوں نے پھلتے پھولتے پیڑوں سے جانا ہے
مگر میں نے تجھے سبزے کی عریانی سے پہچانا

کلیم حیدر شرر




سسکیاں بھر کے شررؔ کون وہاں روتا تھا
خیمۂ خواب سر شام جہاں پر ٹوٹا

کلیم حیدر شرر