یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے
کلیم عاجز
یہ بیان حال یہ گفتگو ہے مرا نچوڑا ہوا لہو
ابھی سن لو مجھ سے کہ پھر کبھو نہ سنو گے ایسی کہانیاں
کلیم عاجز
یہ کیسی بہار چمن آئی کہ چمن میں
ویرانہ ہی ویرانہ ہے تا حد نظر آج
کلیم عاجز
یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا
کلیم عاجز
یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا
کلیم عاجز
یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا
کلیم عاجز
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی
کلیم عاجز

