EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

کلیم عاجز




یہ بیان حال یہ گفتگو ہے مرا نچوڑا ہوا لہو
ابھی سن لو مجھ سے کہ پھر کبھو نہ سنو گے ایسی کہانیاں

کلیم عاجز




یہ کیسی بہار چمن آئی کہ چمن میں
ویرانہ ہی ویرانہ ہے تا حد نظر آج

کلیم عاجز




یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

کلیم عاجز




یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

کلیم عاجز




یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

کلیم عاجز




ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی

کلیم عاجز