گر ڈوبنا ہی اپنا مقدر ہے تو سنو
ڈوبیں گے ہم ضرور مگر ناخدا کے ساتھ
کیفی اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ
قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
کیفی اعظمی
ٹیگز:
| حجرت |
| 2 لائنیں شیری |
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں
دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
کیفی اعظمی
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
کیفی اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
دبا دبا سا سہی دل میں پیار ہے کہ نہیں
کیفی اعظمی
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے
کیفی اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو اک خدا نہیں ملتا تو اتنا ماتم کیوں
یہاں تو کوئی مرا ہم زباں نہیں ملتا
کیفی اعظمی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

