EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
اس انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

کیفی اعظمی




میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا
گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

کیفی اعظمی




مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہ
جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے

کیفی اعظمی




پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا
جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا

کیفی اعظمی




رہیں نہ رند یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں

کیفی اعظمی




رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں

کیفی اعظمی




اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کر
خط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملا

کیفی حیدرآبادی