EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

کیف بھوپالی




تجھے کیا بتاؤں میں بے خبر کہ ہے درد عشق میں کیا اثر
یہ ہے وہ لطیف سی کیفیت جو زباں تک آئے ادا نہ ہو

کیف اکرامی




اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں

کیفی اعظمی




بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینا
مجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے

کیفی اعظمی




بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میں
کہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میں

کیفی اعظمی




بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے
انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے

کیفی اعظمی




بیلچے لاؤ کھولو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ہوں کچھ پتا تو چلے

کیفی اعظمی