EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشق
ایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملا

کیفی حیدرآبادی




دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوں
صحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوں

کیفی حیدرآبادی




ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلے
اب آپ کی راہ دیکھتے ہیں

کیفی حیدرآبادی




ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہے
دنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہے

کیفی حیدرآبادی




خم سبو ساغر صراحی جام پیمانہ مرا
میرے ساقی جب مرا تو ہے تو مے خانہ مرا

کیفی حیدرآبادی




مزا ہے ترے بسملوں کو تڑپ میں
تڑپ میں نہیں بسملوں میں مزا ہے

کیفی حیدرآبادی




محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگا
ابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگا

کیفی حیدرآبادی