غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا
وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا
جنید حزیں لاری
اک شمع آرزو کی حقیقت ہی کیا مگر
طوفاں میں ہم چراغ جلائے ہوئے تو ہیں
جنید حزیں لاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق ہے جی کا زیاں عشق میں رکھا کیا ہے
دل برباد بتا تیری تمنا کیا ہے
جنید حزیں لاری
کبھی اس راہ سے گزرے وہ شاید
گلی کے موڑ پر تنہا کھڑا ہوں
جنید حزیں لاری
ٹیگز:
| انتر |
| 2 لائنیں شیری |
کلیوں میں تازگی ہے نہ پھولوں میں باس ہے
تیرے بغیر سارا گلستاں اداس ہے
جنید حزیں لاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
قطرہ نہ ہو تو بحر نہ آئے وجود میں
پانی کی ایک بوند سمندر سے کم نہیں
جنید حزیں لاری
ٹیگز:
| تعظیم |
| 2 لائنیں شیری |
رکی رکی سی ہے برسات خشک ہے ساون
یہ اور بات کہ موسم یہی نمو کا ہے
جنید حزیں لاری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

