EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا
وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

جنید حزیں لاری




اک شمع آرزو کی حقیقت ہی کیا مگر
طوفاں میں ہم چراغ جلائے ہوئے تو ہیں

جنید حزیں لاری




عشق ہے جی کا زیاں عشق میں رکھا کیا ہے
دل برباد بتا تیری تمنا کیا ہے

جنید حزیں لاری




کبھی اس راہ سے گزرے وہ شاید
گلی کے موڑ پر تنہا کھڑا ہوں

جنید حزیں لاری




کلیوں میں تازگی ہے نہ پھولوں میں باس ہے
تیرے بغیر سارا گلستاں اداس ہے

جنید حزیں لاری




قطرہ نہ ہو تو بحر نہ آئے وجود میں
پانی کی ایک بوند سمندر سے کم نہیں

جنید حزیں لاری




رکی رکی سی ہے برسات خشک ہے ساون
یہ اور بات کہ موسم یہی نمو کا ہے

جنید حزیں لاری