اللہ رے بھلاپا منہ دھو کے خود وہ بولے
سونگھو تو ہو گیا یہ پانی گلاب کیوں کر
جرأت قلندر بخش
بعد مدت وہ دیکھ کر بولا
کس نے یاں خاک کا یہ ڈھیر رکھا
جرأت قلندر بخش
بال ہیں بکھرے بینڈ ہیں ٹوٹے کان میں ٹیڑھا بالا ہے
جرأتؔ ہم پہچان گئے ہیں دال میں کالا کالا ہے
جرأت قلندر بخش
بے حس و حیراں جو ہوں گھر میں پڑا اس کے عوض
کاش میں نقش قدم ہوتا کسی کی راہ کا
جرأت قلندر بخش
بھری جو حسرت و یاس اپنی گفتگو میں ہے
خدا ہی جانے کہ بندہ کس آرزو میں ہے
جرأت قلندر بخش
بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر
وہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کر
جرأت قلندر بخش
بود و باش اپنی کہیں کیا کہ اب اس بن یوں ہے
جس طرح سے کوئی مجذوب کہیں بیٹھ رہا
جرأت قلندر بخش

