EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اللہ رے بھلاپا منہ دھو کے خود وہ بولے
سونگھو تو ہو گیا یہ پانی گلاب کیوں کر

جرأت قلندر بخش




بعد مدت وہ دیکھ کر بولا
کس نے یاں خاک کا یہ ڈھیر رکھا

جرأت قلندر بخش




بال ہیں بکھرے بینڈ ہیں ٹوٹے کان میں ٹیڑھا بالا ہے
جرأتؔ ہم پہچان گئے ہیں دال میں کالا کالا ہے

جرأت قلندر بخش




بے حس و حیراں جو ہوں گھر میں پڑا اس کے عوض
کاش میں نقش قدم ہوتا کسی کی راہ کا

جرأت قلندر بخش




بھری جو حسرت و یاس اپنی گفتگو میں ہے
خدا ہی جانے کہ بندہ کس آرزو میں ہے

جرأت قلندر بخش




بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر
وہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کر

جرأت قلندر بخش




بود و باش اپنی کہیں کیا کہ اب اس بن یوں ہے
جس طرح سے کوئی مجذوب کہیں بیٹھ رہا

جرأت قلندر بخش