EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم کو سوتے میں بھی کب آنکھ اٹھا کر دیکھا
ہم نے خوابوں میں بھی آنکھوں کی نگہ داری کی

جنید اختر




وہ تو بس جھوٹی تسلی کو کہا تھا تم سے
ہم تو اپنے بھی نہیں، خاک تمہارے ہوتے

جنید اختر




یقیں خود اٹھ گیا ہے مجھ سے میرا
مری اتنی طرف داری ہوئی ہے

جنید اختر




عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے
خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا

جنید حزیں لاری




دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے
تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے

جنید حزیں لاری




دور ساحل سے کوئی شوخ اشارا بھی نہیں
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں

جنید حزیں لاری




غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھا
لیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی

جنید حزیں لاری