تم کو سوتے میں بھی کب آنکھ اٹھا کر دیکھا
ہم نے خوابوں میں بھی آنکھوں کی نگہ داری کی
جنید اختر
وہ تو بس جھوٹی تسلی کو کہا تھا تم سے
ہم تو اپنے بھی نہیں، خاک تمہارے ہوتے
جنید اختر
یقیں خود اٹھ گیا ہے مجھ سے میرا
مری اتنی طرف داری ہوئی ہے
جنید اختر
عجب بہار دکھائی لہو کے چھینٹوں نے
خزاں کا رنگ بھی رنگ بہار جیسا تھا
جنید حزیں لاری
دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے
تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے
جنید حزیں لاری
دور ساحل سے کوئی شوخ اشارا بھی نہیں
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں
جنید حزیں لاری
غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھا
لیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی
جنید حزیں لاری

