EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے
کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے

جنید حزیں لاری




اداسیاں ہیں جو دن میں تو شب میں تنہائی
بسا کے دیکھ لیا شہر آرزو میں نے

جنید حزیں لاری




اسی کو دشت خزاں نے کیا بہت پامال
جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا

جنید حزیں لاری




وہ سادگی میں بھی ہے عجب دل کشی لئے
اس واسطے ہم اس کی تمنا میں جی لئے

جنید حزیں لاری




آنکھ لگتی نہیں جرأتؔ مری اب ساری رات
آنکھ لگتے ہی یہ کیسا مجھے آزار لگا

جرأت قلندر بخش




آنکھ اٹھا کر اسے دیکھوں ہوں تو نظروں میں مجھے
یوں جتاتا ہے کہ کیا تجھ کو نہیں ڈر میرا

جرأت قلندر بخش




آنکھ اٹھا کر اسے دیکھوں ہوں تو نظروں میں مجھے
یوں جتاتا ہے کہ کیا تجھ کو نہیں ڈر میرا

جرأت قلندر بخش