EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زاہد نہ رہنے پائیں گے آباد مے کدے
جب تک نہ ڈھایئے گا تری خانقاہ کو

جوشش عظیم آبادی




زلف اور رخ کی پرستش شرط ہے
کفر ہو اے شیخ یا اسلام ہو

جوشش عظیم آبادی




عکس خیال یار سنوارا کریں گے ہم
شیشے میں آئنے کو اتارا کریں گے ہم

جنید اختر




میں بھلا ہاتھ دعاؤں کو اٹھاتا کیسے
اس نے چھوڑی ہی نہیں کوئی ضرورت باقی

جنید اختر




راہ طلب میں دام و درم چھوڑ جائیں گے
لکھ لو ہمارے شعر بڑے کام آئیں گے

جنید اختر




رکھتے ہیں محبت کو تغافل میں چھپا کر
پروا ہی تو کرتے ہیں جو پروا نہیں کرتے

جنید اختر




سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں
کچھ گھاؤ ہمیں زخم لگانے میں لگے ہیں

جنید اختر