ترا شعر ؔجوشش تجھے ہے پسند
تو محتاج ہے کس کی تائید کا
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تجھ سے ہم بزم ہوں نصیب کہاں
تو کہاں اور میں غریب کہاں
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس کے رخسار پر کہاں ہے زلف
شعلۂ حسن کا دھواں ہے زلف
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| زلف |
| 2 لائنیں شیری |
وہ ماہ بھر کے جام مے ناب لے گیا
اک دم میں آفتاب کو مہتاب لے گیا
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یاں تک رہے جدا کہ ہمارے مذاق میں
آخر کہ زہر ہجر بھی تریاک ہو گیا
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
یہ سچ ہے کہ اوروں ہی کو تم یاد کرو گے
میرے دل ناشاد کو کب شاد کرو گے
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| یاد |
| 2 لائنیں شیری |
یہ زیست طرف دل ہی میں یارب تمام ہو
کافر ہوں گر ارادۂ بیت الحرام ہو
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

