EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترا شعر ؔجوشش تجھے ہے پسند
تو محتاج ہے کس کی تائید کا

جوشش عظیم آبادی




تجھ سے ہم بزم ہوں نصیب کہاں
تو کہاں اور میں غریب کہاں

جوشش عظیم آبادی




اس کے رخسار پر کہاں ہے زلف
شعلۂ حسن کا دھواں ہے زلف

جوشش عظیم آبادی




وہ ماہ بھر کے جام مے ناب لے گیا
اک دم میں آفتاب کو مہتاب لے گیا

جوشش عظیم آبادی




یاں تک رہے جدا کہ ہمارے مذاق میں
آخر کہ زہر ہجر بھی تریاک ہو گیا

جوشش عظیم آبادی




یہ سچ ہے کہ اوروں ہی کو تم یاد کرو گے
میرے دل ناشاد کو کب شاد کرو گے

جوشش عظیم آبادی




یہ زیست طرف دل ہی میں یارب تمام ہو
کافر ہوں گر ارادۂ بیت الحرام ہو

جوشش عظیم آبادی