آگے تھا دل ہی مرا اب ہے کھدا آپ کا نام
ذوق سے سمجھیے آپ اس کو نگینہ اپنا
جرأت قلندر بخش
آج گھیرا ہی تھا اسے میں نے
کر کے اقرار مجھ سے چھوٹ گیا
جرأت قلندر بخش
عالم مستی میں میرے منہ سے کچھ نکلا جو رات
بول اٹھا تیوری چڑھا کر وہ بت مے خوار چپ
جرأت قلندر بخش
آلودہ بہ خوں چشم سے ٹپکے ہے جو آنسو
سب کہتے ہیں حیرت سے یہ موتی ہے کہ مونگا
جرأت قلندر بخش
آستین موج دریا سے جدا ہوتی نہیں
ربط تیرا چشم سے کیوں آستیں جاتا رہا
جرأت قلندر بخش
آیا تھا شب کو چھپ کے وہ رشک چمن سو آہ
پھیلی یہ گھر میں بو کہ محلہ مہک گیا
جرأت قلندر بخش
احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیب
ہے درد اس جگہ کہ جہاں کا نہیں علاج
جرأت قلندر بخش

