EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آگے تھا دل ہی مرا اب ہے کھدا آپ کا نام
ذوق سے سمجھیے آپ اس کو نگینہ اپنا

جرأت قلندر بخش




آج گھیرا ہی تھا اسے میں نے
کر کے اقرار مجھ سے چھوٹ گیا

جرأت قلندر بخش




عالم مستی میں میرے منہ سے کچھ نکلا جو رات
بول اٹھا تیوری چڑھا کر وہ بت مے خوار چپ

جرأت قلندر بخش




آلودہ بہ خوں چشم سے ٹپکے ہے جو آنسو
سب کہتے ہیں حیرت سے یہ موتی ہے کہ مونگا

جرأت قلندر بخش




آستین موج دریا سے جدا ہوتی نہیں
ربط تیرا چشم سے کیوں آستیں جاتا رہا

جرأت قلندر بخش




آیا تھا شب کو چھپ کے وہ رشک چمن سو آہ
پھیلی یہ گھر میں بو کہ محلہ مہک گیا

جرأت قلندر بخش




احوال کیا بیاں میں کروں ہائے اے طبیب
ہے درد اس جگہ کہ جہاں کا نہیں علاج

جرأت قلندر بخش