پھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان
اس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رکھتے ہیں دہانوں پہ سدا مہر خموشی
وے لوگ جنہیں آتی ہے گفتار محبت
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
صبا بھی دور کھڑی اپنے ہاتھ ملتی ہے
تری گلی میں کسی کا گزر نہیں ہرگز
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سجدہ جسے کریں ہیں وو ہر سو ہے جلوہ گر
جیدھر ترا مزاج ہو اودھر نماز کر
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شرط انداز ہے اگر آئے
بات چھوٹی ہو یا بڑی منہ پر
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد
بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| لیکن |
| 2 لائنیں شیری |
تنک اودھر ہی رہ اے حرص دنیا
نہ دے تکلیف اس گوشہ نشیں کو
جوشش عظیم آبادی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

