EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھرتے ہیں کئی قیس سے حیران و پریشان
اس عشق کی سرکار میں بہبود نہیں ہے

جوشش عظیم آبادی




رکھتے ہیں دہانوں پہ سدا مہر خموشی
وے لوگ جنہیں آتی ہے گفتار محبت

جوشش عظیم آبادی




صبا بھی دور کھڑی اپنے ہاتھ ملتی ہے
تری گلی میں کسی کا گزر نہیں ہرگز

جوشش عظیم آبادی




سجدہ جسے کریں ہیں وو ہر سو ہے جلوہ گر
جیدھر ترا مزاج ہو اودھر نماز کر

جوشش عظیم آبادی




شرط انداز ہے اگر آئے
بات چھوٹی ہو یا بڑی منہ پر

جوشش عظیم آبادی




طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد
بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر

جوشش عظیم آبادی




تنک اودھر ہی رہ اے حرص دنیا
نہ دے تکلیف اس گوشہ نشیں کو

جوشش عظیم آبادی