EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جب بھی آتا ہے وہ میرے دھیان میں
پھول رکھ جاتا ہے روشن دان میں

جاذب قریشی




کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی




اشک آنکھوں سے یہ کہہ کر نکلا
یہ ترے ضبط کی حد ہے؟ حد ہے

جیم جاذل




ایک بچہ سا بے سبب جاذلؔ
بیٹھا رہتا ہے روٹھ کر مجھ میں

جیم جاذل




میں اپنے جسم کے اندر نہ دفن ہو جاؤں
مجھے وجود کے گرتے ہوئے مکاں سے نکال

جیم جاذل




رکھی تھی تصویر تمہاری آنکھوں میں
ہم نے ساری رات گزاری آنکھوں میں

جیم جاذل




زندگی تجھ کو ترے درد کے ہر اک پل کو
ہم نے جس طرح گزارا ہے خدا جانتا ہے

جیم جاذل