EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلا دے
میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں

جاوید اکرم فاروقی




کتنا مشکل ہوا جواب مجھے
کتنا آسان تھا سوال اس کا

جاوید اکرم فاروقی




لمحہ لمحہ روز سنورنے والا تو
لمحہ لمحہ لمحہ روز بکھرنے والا میں

جاوید اکرم فاروقی




میں ہاتھوں میں خنجر لے کر سوچ رہا ہوں
لوٹوں گا تو میرا بھی گھر زخمی ہوگا

جاوید اکرم فاروقی




مسکرانے کی سزا ملتی رہی
مسکرانے کی خطا کرتے رہے

جاوید اکرم فاروقی




سفر میں تم ہمارے ساتھ رہنا
کہیں ہم راستوں میں کھو نہ جائیں

جاوید اکرم فاروقی




اس کی البم میں تو تصویر مری ہے موجود
اس نے تصویر کو سینے سے لگایا نہ کبھی

جاوید جمیل