EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سب خط تمام کر چکے پڑھ پڑھ کے شوق سے
واں تھم گئے جہاں پہ مرا نام آ گیا

جاوید لکھنوی




شب وصل کیا جانے کیا یاد آیا
وہ کچھ آپ ہی آپ شرما رہے ہیں

جاوید لکھنوی




صورت نہ یوں دکھائے انہیں بار بار چاند
پیدا کرے حسینوں میں کچھ اعتبار چاند

جاوید لکھنوی




تم دیئے جاؤ یوں ہی ہم کو ہوا دامن کی
ہم سے بے ہوش نہیں ہوش میں آنے والے

جاوید لکھنوی




تم پاس جو آئے کھو گئے ہم
جب تم نہ ملے تو جستجو کی

جاوید لکھنوی




تمہیں ہے نشہ جوانی کا ہم میں غفلت عشق
نہ اختیار میں تم ہو نہ اختیار میں ہم

جاوید لکھنوی




امید کا برا ہو سمجھا کہ آپ آئے
بے وجہ شب کو ہل کر زنجیر در نے مارا

جاوید لکھنوی