EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں
وارفتگئ شوق کہاں لے چلی ہمیں

جاوید کمال رامپوری




پھر کئی زخم دل مہک اٹھے
پھر کسی بے وفا کی یاد آئی

جاوید کمال رامپوری




وہی بے وجہ اداسی وہی بے نام خلش
راہ و رسم دل ناکام سے جی ڈرتا ہے

جاوید کمال رامپوری




ہے دلوں کا وہی جو دانۂ تسبیح کا حال
یوں ملے ہیں پہ ہیں دراصل جدا ایک سے ایک

جاوید لکھنوی




جس جگہ جائیں بنا لیں ترے وحشی صحرا
خاک لے آئے ہیں مٹھی میں بیابانوں کی

جاوید لکھنوی




کہیں ایسا نہ ہو مر جاؤں میں حسرت ہی حسرت میں
جو لینا ہو تو لے لو سب سے پہلے امتحاں میرا

جاوید لکھنوی




خاک اڑ کے ہماری ترے کوچہ میں پہنچتی
تقدیر تھی یہ بھی کہ ہوا بھی نہ چلی آج

جاوید لکھنوی