ہم آگہی کو روتے ہیں اور آگہی ہمیں
وارفتگئ شوق کہاں لے چلی ہمیں
جاوید کمال رامپوری
پھر کئی زخم دل مہک اٹھے
پھر کسی بے وفا کی یاد آئی
جاوید کمال رامپوری
وہی بے وجہ اداسی وہی بے نام خلش
راہ و رسم دل ناکام سے جی ڈرتا ہے
جاوید کمال رامپوری
ہے دلوں کا وہی جو دانۂ تسبیح کا حال
یوں ملے ہیں پہ ہیں دراصل جدا ایک سے ایک
جاوید لکھنوی
جس جگہ جائیں بنا لیں ترے وحشی صحرا
خاک لے آئے ہیں مٹھی میں بیابانوں کی
جاوید لکھنوی
کہیں ایسا نہ ہو مر جاؤں میں حسرت ہی حسرت میں
جو لینا ہو تو لے لو سب سے پہلے امتحاں میرا
جاوید لکھنوی
خاک اڑ کے ہماری ترے کوچہ میں پہنچتی
تقدیر تھی یہ بھی کہ ہوا بھی نہ چلی آج
جاوید لکھنوی

