نیکی اک دن کام آتی ہے ہم کو کیا سمجھاتے ہو
ہم نے بے بس مرتے دیکھے کیسے پیارے پیارے لوگ
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
پھر خموشی نے ساز چھیڑا ہے
پھر خیالات نے لی انگڑائی
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سب کا خوشی سے فاصلہ ایک قدم ہے
ہر گھر میں بس ایک ہی کمرہ کم ہے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تب ہم دونوں وقت چرا کر لاتے تھے
اب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تھیں سجی حسرتیں دکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تم یہ کہتے ہو کہ میں غیر ہوں پھر بھی شاید
نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

