خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے
وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
مرے انجام کی وہ ابتدا تھی
جاوید اختر
ٹیگز:
| بچپن |
| 2 لائنیں شیری |
میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا
جاوید اختر
ٹیگز:
| خدواری |
| 2 لائنیں شیری |
مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے
یہی عادت تری اچھی نہیں ہے
جاوید اختر
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

