EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خون سے سینچی ہے میں نے جو زمیں مر مر کے
وہ زمیں ایک ستم گر نے کہا اس کی ہے

جاوید اختر




کوئی شکوہ نہ غم نہ کوئی یاد
بیٹھے بیٹھے بس آنکھ بھر آئی

جاوید اختر




میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
مرے انجام کی وہ ابتدا تھی

جاوید اختر




میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا

جاوید اختر




میں قتل تو ہو گیا تمہاری گلی میں لیکن
مرے لہو سے تمہاری دیوار گل رہی ہے

جاوید اختر




مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

جاوید اختر




مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہے
یہی عادت تری اچھی نہیں ہے

جاوید اختر