EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آئی تھی چند گام اسی بے وفا کے ساتھ
پھر عمر بھر کو بھول گئی زندگی ہمیں

جاوید کمال رامپوری




اب تو آ جاؤ رسم دنیا کی
میں نے دیوار بھی گرا دی ہے

جاوید کمال رامپوری




اگر سکون سے عمر عزیز کھونا ہو
کسی کی چاہ میں خود کو تباہ کر لیجے

جاوید کمال رامپوری




دروازوں کے پہرے ہیں دیواروں کے سنگینیں
ہوتا جو مرے بس میں اس گھر سے نکل جاتا

جاوید کمال رامپوری




دن کے سینے میں دھڑکتے ہوئے لمحوں کی قسم
شب کی رفتار سبک گام سے جی ڈرتا ہے

جاوید کمال رامپوری




ہائے وہ لوگ ہم سے روٹھ گئے
جن کو چاہا تھا زندگی کی طرح

جاوید کمال رامپوری




ہاتھ پھر بڑھ رہا ہے سوئے جام
زندگی کی اداسیوں کو سلام

جاوید کمال رامپوری