EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس کے بندوں کو دیکھ کر کہئے
ہم کو امید کیا خدا سے رہے

جاوید اختر




اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہے
میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں

جاوید اختر




اونچی عمارتوں سے مکاں میرا گھر گیا
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے

جاوید اختر




یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا
کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا

جاوید اختر




یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

جاوید اختر




یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا

جاوید اختر




ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے

جاوید اختر