اس کے بندوں کو دیکھ کر کہئے
ہم کو امید کیا خدا سے رہے
جاوید اختر
اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہے
میں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں
جاوید اختر
اونچی عمارتوں سے مکاں میرا گھر گیا
کچھ لوگ میرے حصے کا سورج بھی کھا گئے
جاوید اختر
یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا
کل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگا
جاوید اختر
یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے
جاوید اختر
یہ زندگی بھی عجب کاروبار ہے کہ مجھے
خوشی ہے پانے کی کوئی نہ رنج کھونے کا
جاوید اختر
ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
جاوید اختر

